حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے قم میں مدرسہ علمیہ حقانی کے اساتذہ، طلبہ اور ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب اسلامی اور گزشتہ ایک صدی کے دوران حوزہ علمیہ قم میں آنے والی تبدیلیاں، گزشتہ ایک ہزار سال کی حوزوی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوتی ہیں۔ اس انقلاب نے دینی علوم کی اشاعت کے لیے ایسے نئے راستے کھولے ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
مدرسہ علمیہ حقانی کے دورے کے موقع پر انہوں نے اس مدرسے کی علمی اور تربیتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قم اور ایران کے مختلف علاقوں میں تقریباً 20 ایسے ممتاز مدارس موجود ہیں جہاں حوزہ علمیہ کے قابل اور باصلاحیت طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مدرسہ حقانی بھی ان اہم اداروں میں شامل ہے اور اسے یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں سے حوزہ علمیہ کے مستقبل کے لیے مؤثر افراد تیار ہو سکتے ہیں۔ یہ مقام جہاں ایک بڑا اعزاز ہے، وہیں ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ انقلاب اسلامی کے بعد حوزہ علمیہ کے سامنے عالمی سطح پر کام کرنے کے وسیع امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ آج دنیا کے مختلف خطوں میں دینی تعلیم، تبلیغ اور معارف اہل بیتؑ کی اشاعت کے لیے بڑے پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، اگر حوزہ علمیہ کی موجودہ صلاحیت میں سو گنا اضافہ بھی کر دیا جائے تو بھی دنیا میں موجود ان ضروریات کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے اپنے بین الاقوامی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حوزوی ذمہ داریوں کے سلسلے میں دنیا کے درجنوں ممالک میں جانے اور سو سے زیادہ ممالک کے حالات، فکری رجحانات اور دینی ضروریات کا قریب سے جائزہ لینے کا موقع ملا ہے۔ اس تجربے کی بنیاد پر وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام، انقلاب اسلامی اور دینی تعلیمات کی اشاعت کے لیے آج غیر معمولی مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ صرف اپنے علاقے یا محدود ماحول تک اپنی سوچ کو محدود نہ رکھیں، بلکہ عالمی حالات اور بین الاقوامی تبدیلیوں کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ آج کے طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمی گہرائی، وسیع معلومات، حکمت، جامعیت اور جدید تقاضوں سے واقفیت رکھتا ہو، تاکہ دنیا میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دے سکے اور دینی تعلیمات کو مؤثر انداز میں پیش کر سکے۔
حوزہ علمیہ کی تاریخ کے اہم ادوار
حوزہ علمیہ کی تاریخی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہزار سال کے دوران کئی ایسے اہم ادوار گزرے ہیں جن میں علماء نے علمی، سیاسی اور سماجی میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔
انہوں نے پہلا اہم دور شیخ مفید اور شیخ طوسی کے زمانے کو قرار دیا، جب بغداد، قم اور ری کے علمی مراکز میں معارف اہل بیتؑ کو فروغ ملا اور تشیع کی علمی بنیادیں مضبوط ہوئیں۔
دوسرا دور مغولوں کے زمانے کا تھا، جب خواجہ نصیرالدین طوسی اور علامہ حلی جیسے علماء نے علمی و فکری میدان میں اہم کردار ادا کیا اور اس دور کے حالات کو مثبت سمت دینے میں مؤثر کردار ادا کیا۔
تیسرے اہم دور کا تعلق صفوی حکومت سے ہے، جب محقق کرکی، شیخ بہائی، ملاصدرا اور میرداماد جیسے بزرگ علماء نے علمی، دینی، ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان علماء کی کوششوں سے اصفہان ایک بڑے علمی مرکز کے طور پر ابھرا اور فقہ، فلسفہ، کلام، حدیث، معماری اور سماجی زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم کام ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ان تاریخی ادوار کے باوجود عصر حاضر میں قم کی ایک سو سالہ تحریک اور انقلاب اسلامی کے نتیجے میں آنے والی تبدیلیاں اپنی وسعت اور اثرات کے اعتبار سے ان سب سے آگے ہیں۔ اس لیے آج کے طلبہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اعلیٰ علمی اور اخلاقی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں۔
دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں حوزوی سرگرمیاں
آیت اللہ اعرافی نے موجودہ دور کی سب سے نمایاں خصوصیت حوزہ علمیہ کے عالمی پھیلاؤ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ میں اس طرح کے عالمی امکانات پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئے۔ آج قم کے علمی اور تربیتی نظام سے متاثر ہو کر دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں دینی تعلیم اور حوزوی سرگرمیوں کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افریقہ کے دور دراز علاقوں سے لے کر یورپ، امریکہ، قفقاز، مشرق بعید اور جنوب مشرقی ایشیا تک حوزہ علمیہ کی سرگرمیاں پھیل چکی ہیں۔ ابتدا میں ایرانی علماء نے مختلف ممالک میں جا کر اس کام کی بنیاد رکھی اور بعد میں مقامی افراد نے بھی دینی تعلیم حاصل کرکے اس ذمہ داری کو سنبھالا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کے نتیجے میں دنیا بھر میں دینی علوم سے وابستہ افراد کا ایک بڑا حلقہ وجود میں آیا ہے، جس نے حوزہ علمیہ، معارف اہل بیتؑ اور اسلامی فکر کی اشاعت کے لیے نئے میدان کھولے ہیں۔ یہ ایک تاریخی موقع اور بڑی ذمہ داری ہے، جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے حوزہ علمیہ کے اساتذہ اور طلبہ کو مزید محنت اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔










آپ کا تبصرہ